احمد آباد،19 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مرکزی تفتیشی بیورو نے منگل کو خصوصی سی بی آئی عدالت میں کہا کہ گجرات حکومت نے عشرت جہاں اور تین دیگر کے فرضی انکاؤنٹر معاملے میں ریٹائرڈ پولیس افسران ڈی جی ونجارا اور این کے امین کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
سی بی آئی کے خصوصی جج جے کے پانڈیا کی عدالت میں سی بی آئی کے وکیل آر سی ڈیکرکے ذریعہ پیش کئے گئے ایک خط کو پڑھنے کے بعد عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت نے سابق پولیس افسران کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔یہ پولیس افسر عشرت جہاں معاملے میں مجرمانہ پینل کوڈ کی دفعہ 197 کے تحت ملزم ہیں۔
دفاعی وکیل نے تب دونوں سابق پولیس افسران کے خلاف کارروائی واپس لینے کے لئے درخواست دائر کرنے کی اجازت مانگی۔ عدالت نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے انہیں 26 مارچ کو درخواست دائر کرنے کے لئے کہا۔ پہلے عدالت نے دونوں سابق حکام کو بری کرنے کا مطالبہ کرنے والے درخواست مسترد کرتے ہوئے سی بی آئی سے اس بارے میں رخ واضح کرنے کو کہا تھا کہ کیا وہ دونوں سابق حکام کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے ریاستی حکومت سے اجازت چاہتی ہے۔ اس کے بعد سی بی آئی نے دونوں سابق حکام کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دینے کی درخواست کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو خط لکھا تھا۔ونجارا اور امین ان سات ملزمان میں شامل ہیں جن کے خلاف اس معاملے میں سی بی آئی نے چارج شیٹ داخل کئے ہیں۔ونجارا سابق پولیس انسپکٹر جنرل ہیں اور امین ریٹائرڈ پولیس سپرنٹنڈنٹ ہیں۔ممبئی کے قریب ممبرا کی 19 سالہ عشرت جہاں، جاوید شیخ عرف پرنیش پلے، امجد علی اکبر علی رانا اور ذیشان جوہر کو 15 جون 2004 کو احمد آباد کے بیرونی حصے میں پولیس نے ایک فرضی انکاؤنٹر میں مار دیا تھا۔گجرات پولیس نے تب دعوی کیا تھا کہ ان چاروں کے دہشت گردوں سے تعلقات تھے اور یہ لوگ گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی کو قتل کرنے کی سازش رچ رہے تھے۔